Sun. May 17th, 2026

انڈین آرمی چیف کا بیان غرور اور جنگی جنون پر مبنی ہے: آئی ایس پی آر

388586 1831797623


پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اتوار کو انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کا بیان غرور، جنگی جنون اور محدود سوچ پر مبنی ہے جو خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

 انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر پاکستان فوج کے ترجمان ادارے نے نئی دہلی سے کہا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کے نتائج خطے کے لیے ’تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔

یہ بیان انڈین آرمی چیف جنرل اپیندرا دویویدی کے ایک روز قبل دیے گئے ریمارکس کے جواب میں جاری کیا گیا۔

انڈین بری فوج کے سربراہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں۔‘

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہندوتوا نظریے کے زیر اثر انڈیا میں پائے جانے والے وہم اور غیر حقیقت پسندانہ خیالات کے برعکس، پاکستان ایک اہم عالمی حیثیت رکھتا ہے، ایک ایٹمی طاقت ہے اور جنوبی ایشیا کے جغرافیہ اور تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید حصہ ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قسم کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’انڈین قیادت نہ تو پاکستان کے وجود کو تسلیم کر پائی ہے اور نہ ہی آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود اس نے درست اسباق سیکھے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈین بیانیہ سہولت کے ساتھ اپنی اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے جس میں خطے میں دہشت گردی کے فروغ، ریاستی سرپرستی، علاقائی عدم استحکام، سرحد پار کارروائیوں اور عالمی سطح پر غلط معلومات پھیلانے میں اس کے کردار کے الزامات شامل رہے ہیں۔

’نئی دہلی کا جارحانہ رویہ دراصل اعتماد سے زیادہ اس مایوسی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے جو پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کے باعث سامنے آئی ہے، جس کی جھلک ’معرکۂ حق‘ کے دوران بھی دیکھی گئی۔‘

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے اس بات پر زور دیا کہ ’یہ غرور، جنگی جنون اور محدود سوچ پر مبنی ذہنیت بارہا جنوبی ایشیا کو جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈین قیادت کے لیے بہتر ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران یا جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کے نتائج پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے بھی تباہ کن ہوں گے۔‘

آئی ایس آپی آر کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرے۔

’بصورت دیگر، پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کوشش ایسے نتائج کو جنم دے سکتی ہے جو نہ صرف جغرافیائی حدود تک محدود ہوں گے اور نہ ہی انڈیا کے لیے سٹریٹجک یا سیاسی طور پر قابلِ قبول ہوں گے۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *