Thu. Apr 23rd, 2026

ایران کی خاطر خواہ  فوجی صلاحیتیں تاحال برقرار ہیں امریکہ سے اعتراف سامنے آگیا

news 1776883866 5562



news 1776883866 5562

(ویب ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکام کا دعویٰ مبالغہ ثابت ہو رہا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری میں ایران کی  فوجی صلاحیتوں، خاص طور سے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت اور میزائلوں کے ذخیروں  کو کافی حد تک تباہ  کردیا گیا ہے۔ اب  امریکی میڈیا خود بتا رہا ہے کہ ایران کی خاطر خواہ  فوجی صلاحیتیں تاحال برقرار ہیں۔ اسرائیل میں پہلے ہی یہ باتیں انٹیلی جنس لیکس کے ذریعہ سامنے آ چکی ہیں کہ ایران کے میزائل لانچر اور میزائلوں کے ذخائر برقرار اور قابل استعمال ہیں۔

 ایران کی جنگ کرنے  کی طاقت کے متعلق انٹیلیجنس معلومات رکھنے والے کئی امریکی حکام کے مطابق ایران کے پاس وہ فوجی صلاحیتیں اب بھی موجود ہیں جن کا وائٹ ہاؤس یا پینٹاگون نے عوامی طور پر اعتراف نہیں کیا۔

تین امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اپریل کے آغاز میں جنگ بندی کے وقت ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور ان سے منسلک لانچ سسٹمز کا تقریباً نصف حصہ اب بھی محفوظ تھا۔

حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا تقریباً 60 فیصد حصہ اب بھی موجود ہے جس میں تیز رفتار حملہ آور کشتیاں بھی شامل ہیں۔ 

حکام نے کہا کہ ایران کی فضائی قوت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے لیکن وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور ایران کی فضائیہ کا تقریباً دو تہائی حصہ اب بھی فعال ہے۔

ایک امریکی عہدیدارکے مطابق جنگی نقصانات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ میں ایران کی روایتی بحریہ کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا ہے تاہم حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ، جو غیر روایتی جنگ کے لیے تیار کی گئی ہے اور چھوٹے جہازوں پر مشتمل ہے، جزوی طور پر اب بھی برقرار ہے، اور یہی بحریہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ آپریشن ایپک فیوری میں ایران کی فوجی صلاحیت کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کرنے دعویٰ کرچکے ہیں۔

ی ہبھی پڑھیئے:  ایران میں پاسداران کے میزائل ذخائر، لانچر، ڈرون محفوظ،  نئی ویڈیو کلپ میں دشمن کے جنگ ہارنے کا دعویٰ 

اس سے پہلے اسرائیلی میڈیا میں یہ رپورٹیں شائع ہو چکی ہیں کہ ایران کی حکومت ان میزائل کے اڈوں کو بھی بہت جلد بحال کر لیتی ہے جن پر بمباری کر کے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اب یہ اڈے ناقابل استعمال ہو گئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تواتر کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران کی وار مشین عملاً تباہ ہو چکی ہے لیکن ان کے دعووں کے دوران ہی حالیہ عارضی جنگ بندی سے کچھ دیر پہلے تک ایران اپنی میزائل فائر کرنے کی صلاحیت سے اور اس کے ساتھ ڈرون بھیجنے کے ذریعہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور کئی دوسرے ملکوں پر مسلسل حملے کرتا رہا۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *