
(24 نیوز )معروف مذہبی اسکالر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کسی کی دشمن نہیں بلکہ ایک ٹیکنالوجی ہے، جس کا اثر اس کے استعمال پر منحصر ہوتا ہے۔
اسکینڈینیویا کے ملک ناروے میں جماعت اہل سنت ناروے کے دورے کے دوران ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اس موقع پر انہوں نے نماز جمعہ ادا کی اور خطاب میں نوجوان نسل کی تربیت کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ آج کل گھروں کی حیثیت صرف رہائش گاہ تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ انہیں تربیت گاہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ دین کو بچوں پر مسلط کرنے کے بجائے ان کی فطرت کا حصہ بنائیں تاکہ وہ خود اس کی طرف مائل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت اب زیادہ تر اسکول، معاشرے اور سوشل میڈیا سے ہو رہی ہے، جہاں مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھروں کو تربیتی مراکز بنائیں اور بچوں کو مسجد اور دین سے جوڑیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا، ٹی وی اور سوشل میڈیا خود نہ دوست ہوتے ہیں نہ دشمن، بلکہ یہ صارف کے استعمال پر منحصر ہے کہ وہ انہیں کس طرح فائدہ مند یا نقصان دہ بناتا ہے۔
اپنے آئندہ دورہ پاکستان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی توجہ زیادہ تر کینیڈا میں جاری تحقیقی کام پر ہے، جسے وہ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام مکمل ہونے کے بعد وہ پاکستان کا دورہ کریں گے کیونکہ پاکستان ان کا گھر ہے۔
یہ بھی پڑھیں :حکومت فوری طور پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے: حافظ نعیم الرحمٰن
