
( ویب ڈیسک )برطانیہ کے شہر گلاسگو کے علاقے گریناک میں 30 سالہ نیکول بلین کو اپنی 19 دن کی نومولود بیٹی تھیہ جون ولسن کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔
عدالت میں بتایا گیا کہ بچی کو شدید جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث اس کی کھوپڑی پر فریکچر اور پسلیوں کو بھی نقصان پہنچا، جو ماہرین کے مطابق ہولناک تشدد کی علامت ہے۔
واقعے کے بعد نیکول بلین نے ٹک ٹاک پر متعدد ویڈیوز اپ لوڈ کیں جن میں اس نے بچی کی تدفین کے لیے مالی مدد کی اپیل کی اور اسے “اچانک حادثہ” قرار دیا۔ ان ویڈیوز میں اس نے جذباتی گفتگو بھی کی اور لوگوں سے چندہ دینے کی درخواست کی۔
یہ بھی پڑھیں:سکول بس کےڈرائیور کو دمے کا دورہ، بچوں نے درجنوں جانیں بچا لیں! ویڈیو وائرل
عدالت نے شواہد اور طبی رپورٹس کی بنیاد پر قرار دیا کہ بچی کی موت قدرتی یا حادثاتی نہیں بلکہ تشدد کے نتیجے میں ہوئی، ملزمہ نے ابتدا میں الزام دوسرے بچے پر ڈالنے کی کوشش کی، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔
جج نے نیکول بلین کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک اور غیر معمولی کیس ہے جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
