
( ویب ڈیسک ) چین کی توانائی درآمدات میں نمایاں کمی آ گئی ہے، اپریل میں 20 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی جب چین کی خام تیل درآمدات 38.5 ملین میٹرک ٹن تک گر گئیں۔
روئٹرز کے مطابق ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد چین کی توانائی درآمدات اپریل میں کم ہو گئی ہیں، جب کہ ایندھن کی برآمدات تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
ہفتے کے روز جاری کیے گئے چینی کسٹمز اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں خام تیل کی درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں بیس فی صد کم ہو کر 3 کروڑ 85 لاکھ میٹرک ٹن رہ گئیں، جو جولائی 2022 کے بعد کم ترین سطح ہے۔
چین کی خام تیل کی تقریباً 50 فی صد سپلائی مشرق وسطیٰ سے آتی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا بھر کو تیل اور ریفائنڈ مصنوعات لے جانے والے ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کتنے دن مزید مقابلہ کر سکتا ہے؟ انٹیلیجنس رپورٹ نے امریکہ کو مشکل میں ڈال دیا
چین کے سرکاری اعداد و شمار میں سمندری راستے سے آنے والے تیل اور پائپ لائن کے ذریعے درآمد ہونے والے تیل میں فرق نہیں کیا گیا، تاہم جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق سمندری راستے سے خام تیل کی درآمدات یومیہ 80 لاکھ 30 ہزار بیرل رہیں، جو جولائی 2022 کے بعد کم ترین سطح ہے۔
درآمدات میں کمی کے باوجود شپ ٹریکر ادارے ورٹیکسا کے اندازے کے مطابق اپریل میں خام تیل کے ذخائر میں ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل اضافہ ہوا، تاہم ادارے نے پیش گوئی کی کہ مئی میں یہ ذخائر کم ہو جائیں گے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث چین نے اپنے مقامی بازار کو محفوظ رکھنے کے لیے پٹرول اور جیٹ فیول جیسی ریفائنڈ مصنوعات کی برآمدات سختی سے محدود کر دی ہیں۔ اس پالیسی کے نتیجے میں اپریل میں ریفائنڈ تیل مصنوعات کی برآمدات تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح یعنی 31 لاکھ ٹن تک گر گئیں، جو مارچ کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی کم ہیں۔
قدرتی گیس کی درآمدات بھی 13 فی صد کم ہو کر 84 لاکھ 20 ہزار ٹن رہ گئیں، اگرچہ اعداد و شمار میں سمندری راستے سے آنے والی ایل این جی اور زمینی پائپ لائن کے ذریعے آنے والی گیس کو الگ نہیں کیا گیا۔ چین خلیجی خطے سے ایل این جی کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے۔
اس کے باوجود رواں سال کے پہلے چار ماہ میں چین کی مجموعی خام تیل درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.3 فی صد زیادہ رہیں اور 18 کروڑ 53 لاکھ ٹن تک پہنچ گئیں۔
