Tue. May 12th, 2026

سعودی عرب اور قطر کی خلیجی ریاستوں کی سمندری حدود کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت

395237 2056956753


سعودی عرب اور قطر نے منگل کو آبنائے ہرمز میں خلیجی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگ کے بعد تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تھا۔

بعدازاں پاکستان کی ثالثی میں اگرچہ امریکہ اور ایران جنگ بندی پر متفق تو ہو گئے لیکن آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل نہ ہوسکی اور مختلف مواقع پر اس آبی گزرگاہ میں جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں کابینہ اجلاس کے دوران ’متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کے علاقائی پانیوں کو نشانہ بنانے کی ’غدارانہ کارروائی‘ کی مذمت کی گئی۔‘

ایس پی اے کے مطابق: ’کابینہ کے اجلاس کے دوران خلیجی ممالک کے لیے مملکت کی حمایت اور ان اقدامات کی توثیق کی، جن کے ذریعے وہ اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید کہا گیا کہ ’اجلاس کے دوران وزرا نے علاقائی پیش رفت، سعودی عرب کی بین الاقوامی تعاون کی کوششوں اور حالیہ اقتصادی اشاریوں کا بھی جائزہ لیا۔‘

دوسری جانب قطر نے بھی ایران کو خبردار کیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کو ’خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے‘  یا انہیں ’بلیک میل کرنے‘ کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ ایک بین الاقوامی بحری راہداری ہے، جس کا ہر صورت تحفظ اور دفاع کیا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا: ’میں نے دو روز قبل امریکہ کا دورہ کیا جس کا بنیادی مرکز پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرنا اور ان کوششوں کے مثبت نتائج کو یقینی بنانا تھا تاکہ جلد از جلد مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ میں نے امریکی حکام پر اس جنگ کے خطے پر پڑنے والےافسوسناک اثرات کو بھی واضح کیا اور بتایا کہ اس کا دائرہ کار بڑھنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔‘

قطری وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ خلیج تعاون تنظیم کے رکن ممالک اور خطے کے دیگر برادر ممالک کے ساتھ مل کر تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے بہترین فارمولا طے کیا جا سکے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل میں ایرانی فریق کے ساتھ بہت سے مسائل کو سفارتی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *