Fri. May 22nd, 2026

قلات: مغوی اے ایس ایف ڈپٹی ڈائریکٹر اور باورچی کی تلاش جاری، پولیس

395492 697843760


پولیس کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلات میں قومی شاہراہ کے قریب مسلح افراد کی جانب سے تین روز قبل اغوا کیے گئے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ان کے باورچی کی تلاش جاری ہے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) قلات زاہد شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ژوب ڈویژن میں تعینات اے ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد وسیم اور ان کے کک سعد تین روز قبل کراچی جانے کے لیے کوئٹہ پہنچے تھے۔ وہاں سے وہ ایک نجی کمپنی کی گاڑی کے ذریعے کراچی کے لیے روانہ ہوئے، جس میں ایک اور مسافر بھی سوار تھا۔‘

ایس پی کے مطابق: ’جب گاڑی قلات سے 42 کلومیٹر دور ’کپتو‘ کے مقام پر پہنچی، تو ڈرائیور کو ایک فون کال موصول ہوئی جس میں اسے راستے سے چیری کے ڈبے ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی۔ ڈرائیور گاڑی کو مرکزی شاہراہ سے 22 کلومیٹر دور ایک باغ میں لے گیا، جہاں پہلے سے مسلح افراد موجود تھے۔ مسلح ملزمان نے پوچھ گچھ کے بعد اے ایس ایف کے دونوں اہلکاروں کو اغوا کر لیا، جبکہ ڈرائیور اور دوسرے مسافر کو چھوڑ دیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’رہا ہونے والے افراد نے فوری طور پر پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔‘

سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے مغویوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ ڈرائیور کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبے میں بدامنی اور اغوا کی یہ کوئی پہلی واردات نہیں ہے۔ اس سے قبل 13 مئی کو کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ سے مسلح افراد نے ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر سمیت دو اساتذہ کو اغوا کیا تھا، جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

علاوہ ازیں، گذشتہ روز (جمعرات) بھی مسلح افراد نے زیارت اور کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر معدنیات لے جانے والی متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلح عناصر اکثر قومی شاہراہوں پر ناکے لگا کر گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہیں، جس کے باعث مسافروں اور مقامی عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

صوبے کی مخدوش امن و امان کی صورت حال کے پیشِ نظر بدھ کو کوئٹہ میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت دیگر سول و عسکری حکام نے شرکت کی تھی۔

اجلاس میں صوبے بھر میں امن و امان کی بحالی اور بالخصوص معدنیات نکالنے والی کمپنیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سکیورٹی کے مزید ونگز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *