انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی بدھ کو دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچے ہیں، جسے دونوں ممالک نے تعلقات کو مضبوط بنانے کا موقع قرار دیا ہے۔
اس دورے اور اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے نریندر مودی نے ایکس پر عبرانی زبان میں اپنی ایک پوسٹ میں بتایا۔
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر عبرانی زبان میں لکھا کہ ’میں نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک نہایت مفید ملاقات کی، جس کے دوران میں نے آج دیے گئے پرتپاک استقبال پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ نو سال بعد اسرائیل واپسی پر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔‘
نریندر مودی نے مزید لکھا کہ ’ہم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔‘
. קיימתי פגישה מצוינת עם ראש הממשלה נתניהו, ובמהלכה הבעתי את תודתי על קבלת הפנים החמה מוקדם יותר היום. שמחתי לשוב לישראל לאחר תשע שנים. דנו במגוון רחב של נושאים שמטרתם להעמיק ולחזק את היחסים הדו־צדדיים בין מדינותינו. תחומים כגון טכנולוגיה, ניהול משאבי מים, חקלאות, שיתופי פעולה… pic.twitter.com/11Xj5egXWy
— Narendra Modi (@narendramodi) February 25, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیکنالوجی، آبی وسائل کے انتظام، زراعت، افرادی قوت کی ترقی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
’ہم نے خطے میں ہونے والی اہم پیش رفت پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔‘
یہ نریندر مودی کا نو سال بعد اسرائیل کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے پہلے نریندر مودی 2017 میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے انڈیا کے پہلے وزیر اعظم بنے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نریندر مودی کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ ممکنہ حملوں سے پہلے ایران کے ساحل کے قریب ایک وسیع بحری قوت تعینات کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت میں جمود کا شکار ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اتوار کو کابینہ اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ انڈین وزیر اعظم کا دورہ ’انتہا پسند‘ مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نئے اتحاد کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’جو تصور میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، اس میں ہم مشرقِ وسطیٰ کے اردگرد یا اس کے اندر اتحاد کا ایک مکمل نظام قائم کریں گے، جو بنیادی طور پر ایک ’ہیکساگون‘ یعنی چھ فریقی اتحاد ہوگا۔‘
انڈین وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل سے قبل پاکستان کے ایوان بالا نے منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی جس میں انہوں نے ’مسلم ممالک کے خلاف نام نہاد اتحاد بنانے کے ارادے اور انڈیا کے ساتھ اسرائیل کے اتحاد کا اظہار کیا تھا۔‘
