Sun. Apr 19th, 2026

ٹائٹینک کے زندہ بچ جانے والے شخص کی لائف جیکٹ پونے 7 لاکھ پاؤنڈ میں نیلام

394556 441709428


تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کے ڈوبنے کے دوران زندہ بچ جانے والے ایک شخص کی پہنی ہوئی لائف جیکٹ نیلامی میں حیران کن چھ لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہو گئی۔

یہ جیکٹ فرسٹ کلاس مسافر لورا میبل فرانکاٹیلی نے لائف بوٹ نمبر ایک میں استعمال کی تھی۔

اس پر دیگر آٹھ زندہ بچ جانے والوں کے دستخط بھی موجود ہیں، جن میں فائر مین چارلس ہینڈرکسن، جارج ٹیلر اور ایبل سی مین جیمز ہورسول شامل ہیں۔

اسی نیلامی میں ایک امیر تاجر کی گھڑی، جو جہاز ڈوبنے کے دوران مارا گیا تھا، ایک لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوئی جبکہ ایک لائف بوٹ کا سیٹ کشن، جس پر اصل وائٹ سٹار برجی پلیٹ لگی ہوئی تھی تین لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ میں بکا۔

یہ کشن امریکہ میں ٹینیسی کے شہر پیجن فورج اور مسوری کے شہر برینسن میں قائم ٹائٹینک میوزیم اٹریکشن نے خریدا، جہاں اسے نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔

ہفتے کو ولٹ شائر کے علاقے ڈیویزیز میں ہینری الریڈج اینڈ سن میں ہونے والی نیلامی میں مجموعی طور پر 344 اشیا پیش کی گئیں اور حتمی قیمتوں میں خریدار کا پریمیم بھی شامل تھا۔

ان میں سے تقریباً 15 اشیا خود ٹائٹینک سے منسلک تھیں جبکہ آدھی اشیا اس کے وسیع تر تاریخی پس منظر سے متعلق تھیں۔

نیلام گھر کے مینیجنگ ڈائریکٹر اینڈریو آلڈرج نے پریس ایسوسی ایشن کو بتایا ’میرا خیال ہے کہ یہ ریکارڈ توڑ قیمتیں نہ صرف ٹائٹینک کی کہانی بلکہ اس کے مسافروں اور عملے میں جاری دلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں۔

’ان یادگاری اشیا کے ذریعے ان کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی ہیں۔‘

لائف جیکٹ کے ساتھ ایک اخباری تصویر بھی شامل تھی جس میں لائف بوٹ نمبر ایک کے وہ افراد دکھائے گئے جو اپریل، 1912 میں جہاز کے ڈوبنے کے بعد زندہ بچ گئے تھے۔ اس سانحے میں 1500 افراد مارے گئے تھے۔

مس فرانکاٹیلی معروف فیشن ڈیزائنر لیڈی لوسی ڈف گورڈن کی سیکریٹری تھیں اور اس سفر میں لیڈی لوسی کے شوہر سر کاسمو ڈف گورڈن بھی ان کے ساتھ تھے۔

اس لائف جیکٹ کی متوقع قیمت ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ تک لگائی گئی تھی، تاہم یہ اس سے کہیں زیادہ میں فروخت ہوئی۔

یہ ایک نایاب مثال ہے کیونکہ یہ ان چند اصل لائف جیکٹس میں سے ایک ہے جس کے استعمال کرنے والے کی شناخت معلوم ہے۔

یہ حفاظتی جیکٹ فاس بیری اینڈ کو نے تیار کی تھی، جس میں کارک سے بھرے کینوس کے 12 خانے، کندھوں کے لیے سہارا اور سائیڈ پٹیاں شامل تھیں۔

حادثے کے بعد مس فرانکاٹیلی نے جہاز پر اپنے تجربات پر کم از کم دو تحریری بیانات بھی لکھے، تاہم وہ اس سانحے کے ایک متنازع پہلو میں بھی مرکزی کردار بن گئیں۔

وہ اور ڈف گورڈن ان 12 افراد میں شامل تھے جنہیں 40 افراد کی گنجائش والی لائف بوٹ میں شمالی بحر اوقیانوس میں اتارا گیا تھا۔

تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ان افراد نے واپس جا کر سمندر میں موجود دیگر لوگوں کو بچانے کی کوشش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

نیلامی میں پیش کی گئی 18 قیراط سونے کی جیب گھڑی فرسٹ کلاس مسافر فریڈرک سٹن کی ملکیت تھی، جن کی عمر 61 سال تھی۔

یہ گھڑی بری طرح دبی ہوئی ہے اور اس کا ڈائل حادثے کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی گھنٹہ اور منٹ کی سوئیاں غائب ہیں جبکہ سیکنڈ کی سوئی موجود ہے جو شمالی بحر اوقیانوس کے سرد پانی میں وقت کے ساتھ منجمد ہو گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سٹن کا تعلق سوفک سے تھا، تاہم وہ اپنے خاندان کے ساتھ نیو جرسی میں آباد ہو گئے تھے اور جائیداد کے کاروبار سے امیر بنے۔

وہ مارچ 1912 میں علاج کی غرض سے انگلینڈ آئے اور واپسی پر ٹائٹینک میں سوار تھے جب ان کی موت واقع ہوئی۔

ان کی تدفین سمندر میں کی گئی جبکہ ان کا سامان ایک سفید تھیلے میں رکھ کر، جس پر نمبر 46 درج تھا، میک کے بینیٹ جہاز کے ذریعے کینیڈا کے شہر ہیلی فیکس پہنچایا گیا۔

ان کا ذاتی سامان بعد میں ان کے اہل خانہ نے حاصل کیا اور تب سے ان کی نسلوں کے پاس محفوظ ہے۔

اس گھڑی کی متوقع قیمت 50 سے 80 ہزار پاؤنڈ کے درمیان لگائی گئی تھی۔

لائف بوٹ کا سیٹ کشن اصل میں ایک لندن کے چائے کے درآمد کنندہ کے دوست نے خریدا تھا، جو حادثے میں مارا گیا تھا۔

رچرڈ ولیم سمتھ ٹائٹینک میں اپنے دوست اور ساتھی تاجر ٹی جی میتھیوز سے ملاقات کے لیے نیویارک جا رہے تھے۔

میتھیوز اس سانحے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے یہ کشن اس وقت خرید لیا جب اسے پہلی بار میئر-فارسٹ کارپوریشن کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کیا گیا، جو بحری سامان فراہم کرنے والی ایک معروف کمپنی تھی۔

یہ کینوس سے بنا کشن ان 13 لائف بوٹس میں سے ایک سے لیا گیا تھا جنہوں نے زندہ بچ جانے والوں کو امدادی جہاز SS Carpathia تک پہنچایا۔

یہ کشن چار پیتل کے سوراخوں کے ساتھ مکمل حالت میں ہے اور اس کے ساتھ جہاز کی اصل رسی کا ایک ٹکڑا اور اس کی تصدیق کے لیے دستاویزات شامل تھیں۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *