Thu. Apr 30th, 2026

ٹرمپ اور ممدانی میں کل جوڑ پڑیگا،دنیا کی نظریں سخت سیاسی مخالفوں کی ملاقات پر ٹکی ہوئی

news 1763650029 1166



news 1763650029 1166

(ویب ڈیسک)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کل (جمعہ کے روز)  وائٹ ہاؤس میں نیویارک سٹی کے نومنتخب میئر زہران ممدانی سے پہلی باضابطہ ملاقات کریں گے، دونوں کے سیاسی نظریات متضاد ہیں۔ امریکہ کے علاوہ دنیابھر کی نظریں اس ملاقات پر ٹکی ہوئی ہیں۔یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی باضابطہ گفتگو ہوگی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ وہ جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں نیویارک سٹی کے نومنتخب میئر زہران ممدانی سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی باضابطہ گفتگو ہوگی، حالانکہ وہ نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے سخت سیاسی مخالف تصور کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ ممدانی نے اس ماہ کے اوائل میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، جس کی مہم ایک مضبوط ترقی پسند  ایجنڈے پر مبنی تھی۔ اُن کے منشور میں ایک ملین سے زائد کرایہ داری قوانین کے تحت آنے والے اپارٹمنٹس کے کرائےکی حدمقرر کرنا، یونیورسل چائلڈ کیئر فراہم کرنا، مفت بس سروس کو فنڈ کرنا، اور شہری حکومت کی ملکیت میں چلنے والی گروسری اسٹورز قائم کرنا شامل ہے۔ وہ اپنی پالیسیوں کے لیے کارپوریشنز اور امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے حامی ہیں۔انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے بارہا ممدانی کو ’’کمیونسٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ ان کی کامیابی نیویارک سٹی کی عالمی مالیاتی مرکز کی حیثیت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایک نیویارکر ہونے کے ناطے ٹرمپ نے ووٹروں پر زور دیا تھا کہ وہ ممدانی کے بجائے سابق گورنر اینڈریو کومو کی حمایت کریں، جنہوں نے ڈیموکریٹ پرائمری میں ممدانی سے شکست کے بعد آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا تھا۔ٹرمپ کے مطابق اگر ممدانی شہر کی قیادت سنبھالتے ہیں تو اُن کی انتظامیہ نیویارک سٹی کی وفاقی فنڈنگ روک دے گی۔ انتخابات کے بعد سے صدر کے مشیران ان وفاقی فنڈز کا جائزہ لے رہے ہیں جو شہر کو حاصل ہوتے ہیں تاکہ انہیں معطل یا منسوخ کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ممدانی کی کامیابی نے ٹرمپ کو نیویارک سٹی پر اپنی سخت تنقید کو مزید تیز کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت، جرائم اور امیگریشن پالیسیوں پر ایک ممکنہ ٹکراؤ سامنے آ سکتا ہے—جو آئندہ سال کے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔صدر بننے کے بعد سے ٹرمپ کا رجحان یہ رہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے زیرانتظام شہروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ لاس اینجلس اور شکاگو سمیت متعدد شہروں میں نیشنل گارڈ بھیج چکے ہیں۔

ممدانی نے بیان دیا ہے کہ وہ صدر کے ساتھ کام کرنے کا راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں 13 نومبر کو انہوں نے گورنر کیتھی ہوچل سے ملاقات کی، جس میں ممکنہ طور پر ICE افسران یا نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے لیے شہر کی تیاری پر گفتگو کی گئی۔ممدانی کی کامیابی نے ٹرمپ کو نیویارک سٹی پر اپنی سخت تنقید کو مزید تیز کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت، جرائم اور امیگریشن پالیسیوں پر ایک ممکنہ ٹکراؤ سامنے آ سکتا ہے—جو آئندہ سال کے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں انتشار اور دہشتگردی کی مرتکب مجرمہ کو امریکی عدالت نے سزا سنا دی





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *