Wed. May 20th, 2026

’پنکی‘ پر 26 مقدمات درج، منی لانڈرنگ کی بھی تحقیقات ہوں گی: پولیس

395433 450141821


ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل سندھ (آئی جی) آزاد خان نے بدھ کو انکشاف کیا ہے کہ کوکین سمیت دیگر منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کے خلاف ملک بھر میں مجموعی طور پر 26 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے پارلیمان میں ہونے والے اجلاس میں آئی جی نے بتایا کہ خاتون کے خلاف ’منی لانڈرنگ کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔‘

کراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے منگل 12 مئی کو ایک مشترکہ کارروائی میں  گارڈن کے علاقے سے انمول عرف پنکی نامی خاتون کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام ہے کہ وہ منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک چلاتی ہیں۔

 انہیں اسی روز سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ اس موقعے پر انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت اور پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے کر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا۔

بدھ کو چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمٰن کی زیر صدارت کمیٹی اجلاس میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے عہدے دار نے انکشاف کیا کہ انمول عرف پنکی کے خلاف سال 2019 میں پہلا کیس درج کیا گیا تھا، تاہم ’ایڈریس تبدیل ہونے کے باعث اس کیس پر مؤثر پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجلاس کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ اگر سال 2019 میں پہلا مقدمہ درج ہو چکا تھا تو اس کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہو سکی؟

جس پر ایڈیشنل آئی جی آزاد نے بتایا کہ کراچی پولیس نے سال 2021 سے 2026 کے دوران انمول کے خلاف 17 مقدمات درج کیے جبکہ صوبہ پنجاب میں 2018 سے اب تک پانچ کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید چار مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں۔

اس طرح مجموعی طور پر پنکی کے خلاف تاحال 26 کیسز درج کیے جا چکے ہیں۔

اے آئی جی آزاد خان نے بتایا کہ 2019 میں درج کیے گئے مقدمے کے بعد انمول عرف پنکی کا پاسپورٹ بلاک کیا گیا تھا جبکہ فروری 2021 میں انہوں نے کسی اور نام سے شناختی کارڈ بنوانے کی کوشش کی۔ ’اس حوالے سے نادرا کو خط بھی ارسال کیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف شناخت چوری کا مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔‘

ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل نے مزید بتایا کہ خاتون کے ’16 مختلف بینک اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن میں رقم منتقل کی جاتی تھی اور بعد ازاں سپلائرز کو بھیجی جاتی تھی۔‘

کراچی پولیس چیف کے مطابق: ’خاتون کے موبائل فون سے 868 نمبرز بھی برآمد ہوئے جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ یہ نمبرز کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں کے علاوہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد سے منسلک ہیں۔‘

اجلاس کے دوران آزاد خان نے کہا کہ پنکی کے خلاف مالیاتی اور رابطہ نیٹ ورک کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتاری کے وقت انمول عرف پنکی کے گھر سے ڈیڑھ کلو کوکین، ایک پستول اور دیگر ممنوعہ مواد بھی برآمد ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مختلف نشہ آور اشیا ملا کر منشیات تیار کرتی تھیں، جسے خواتین کے ذریعے رائیڈرز تک پہنچایا جاتا تھا۔ صارفین مبینہ طور پر ادائیگی کے سکرین شاٹس شیئر کرتے، جس کے بعد منشیات ان تک پہنچائی جاتی تھیں۔

ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی اجلاس میں بتایا: ’پنکی ایک مبینہ نشے کے عادی شخص کی موت کے کیس میں بھی زیر تفتیش ہے جہاں اس کے قبضے سے مبینہ طور پر منشیات اور متعلقہ اشیا کا پیکٹ ملا تھا۔‘

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کیس میں غفلت برتنے پر ایس ایچ او اور انویسٹی گیشن افسر سمیت تین اہلکاروں کو معطل کیا گیا جبکہ معاملے کی انکوائری ڈی آئی جی کے سپرد کی گئی۔

ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ وہ اس کیس کی انکوائری کی سربراہی کر رہے ہیں۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *