Sun. May 10th, 2026

ڈونالڈ ٹرمپ کا روس یوکرین کے درمیانروزہ جنگ بندی کا اعلان – Siasat Daily

Donald J Trump 2


واشنگٹن ۔ 9 مئی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے جو 9 مئی سے 11 مئی تک جاری رہے گی۔ عرب میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران ہر قسم کی فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی جبکہ دونوں ممالک 1، 1 ہزار جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔ یوکرینی صدر وولودومیر زیلینسکی نے بھی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ امریکی انتظامیہ کے رابطوں کے بعد طے پایا ہے۔ واضح رہے کہ روس نے پہلے یومِ فتح کی تقریبات کے موقع پر 2 روزہ یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اب امریکی کوششوں سے دونوں فریق 3 روزہ جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمہ کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور حالات بتدریج بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین ہنٹا وائرس کا مطالعہ کر رہے ہیں، : ٹرمپ
واشنگٹن، 9 مئی (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں ہنٹا وائرس سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ ماہرین ہنٹا وائرس کا مطالعہ کر رہے ہیں،امید ہے یہ بڑی حد تک قابو میں ہے ۔ امریکی صدر نے میڈیا سے کہا کہ روس یوکرین میں جنگ بندی 3 دن سے زیادہ طویل ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ روس یوکرین جنگ میں ہر ماہ ہزاروں فوجی لقمہ اجل بن رہے ہیں، میں اس قتل و غارت کو ہر صورت روکنا چاہتا ہوں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہنٹا وائرس سے متعلق بریفنگ دی گئی ، امید ہے ۔ ماہرین اس کا مطالعہ کر رہے ہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں ٹرمپ کو جنگ بندی تجاویز پر ایران کا جواب جلد ملنے کی توقع ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی سے متعلق ہماری تجاویز پر ایران سے جواب جلد ملنے کا امکان ہے ۔

ٹرمپ دور میں عالمی رائے عامہ میں امریکہ کی ساکھ میں نمایاں کمی
واشنگٹن، 9 مئی (یو این آئی) امریکہ کے بارے میں عالمی رائے یا تصور روس سے بھی نیچے چلا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ سے متعلق خراب عالمی تصور کا یہ مسلسل دوسرا سال ہے ، اور اب اسے روس کے مقابلے میں بھی زیادہ منفی طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ امریکہ کے بارے میں خراب تصور سے متعلق جمہوریت پر ایک سالانہ تحقیقی رپورٹ جاری کی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ڈنمارک میں قائم الائنس آف ڈیموکریسی فاؤنڈیشن نے ایک سروے میں سوال کیا کہ روس اور چین کے بعد دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرے والا ملک کون سا ہے جس کے جواب میں اکثریت نے امریکہ کا نام لیا ہے ۔ سروے میں استعمال کیے گئے معیار کی تفصیلات نہیں بتائی گئی تاہم الائنس آف ڈیموکریسی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس سروے کا مقصد جمہوری اقدار کا دفاع اور اسے آگے بڑھانا ہے ۔ سروے میں ملکوں کو منفی 100 سے مثبت 100کی ریٹنگ میں رکھا گیا۔ امریکہ کی نیٹ پرفارمنس ریٹنگ 22 پلس فیصد سے گر کر منفی 16 فیصد ہو گئی جوکہ اب روس کی منفی 11فیصد ریٹنگ سے بھی نیچے چلی گئی ہے ۔ چین کی ریٹنگ مثبت 7 فیصد رکھی گئی ہے ۔ سروے رپورٹ میں 85 ممالک سے 46 ہزار 600جواب دہندگان شامل ہیں۔ رپورٹ 12 مئی کو ہونے والے کوپن ہیگن ڈیموکریسی سمٹ 2026 سے قبل جاری کی گئی ہے ۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *