Thu. Apr 23rd, 2026

2023 کے بعد پاکستان پہلی بار عالمی مارکیٹ سے ایل این جی خریدے گا

394693 1981131416


پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب ایندھن کی رسد میں مشکلات سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر، دسمبر 2023 کے بعد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کھلی منڈی سے خریداری کے لیے پہلا سپاٹ ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔

بین الاقوامی فراہم کنندگان سے تین ایل این جی کارگوز کی بولیاں مانگی گئی ہیں، جن میں سے ہر کھیپ تقریباً ایک لاکھ 40000 ہزار مکعب میٹر کی ہو گی۔ جمعرات کو شائع ہونے والے ٹینڈر کے مطابق قدرتی مائع گیس کی یہ کھیپیں 27 اپریل سے 14 مئی کے درمیان کراچی کی پورٹ قاسم بندرگاہ پر پہنچانی ہوں گی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ ایل این جی کے ٹینڈر کا مقصد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور مہنگے ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اسے قطر سے مزید کارگوز کب ملیں گے؟

یہ ٹینڈر بجلی کی حالیہ قلت کے بعد بھی سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے گذشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش ہوئی، کیوں کہ پن بجلی میں کمی اور ایل این جی کی فراہمی میں تعطل نے بڑھتی ہوئی طلب کے دوران ایندھن کی دستیابی میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر دیا۔

پاکستان کو ایل این جی کا کوئی ایسا کارگو موصول نہیں ہوا جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد  بعد لوڈ کیا گیا ہو۔ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے خلیج کو بحر ہند سے ملانے والی آبنائے ہرمز کے راستے تقریباً تمام جہاز رانی بند کر دی تھی۔

قطر اپنی توانائی کی پیداوار کی ترسیل کے لیے اس آبنائے کے راستے تک رسائی پر انحصار کرتا ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق، اس نے گذشتہ سال پاکستان کی جانب سے درآمد کی جانے والی 66 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن ایل این جی کا زیادہ تر حصہ فراہم کیا تھا۔

آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی سوکار نے منگل کو کہا کہ وہ اسلام آباد کی جانب سے درخواست موصول ہوتے ہی پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ 2025 میں سوکار ٹریڈنگ اور پاکستان ایل این جی کے درمیان طے پانے والا ایک فریم ورک معاہدہ اس جنوبی ایشیائی خریدار کو تیز رفتار طریقہ کار کے تحت کارگوز خریدنے کی اجازت دیتا ہے۔

اسلام آباد نے شمسی توانائی سے بجلی کی فراہمی میں اضافے اور طلب میں سست اضافے کی توقع کرتے ہوئے، اینی کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت 2026-27 کے لیے ایل این جی کے 21 کارگوز منسوخ کر دیے۔ ایل این جی کی فراہمی میں تعطل نے اس تبدیلی کو آزمایا، اگرچہ مقامی اور قابل تجدید توانائی پر زیادہ انحصار نے اس کے اثرات کو کم کر دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم، پاکستان کو اب بھی رسد کے بحران کا خطرہ ہے اور گرمیوں میں طلب کے عروج کو پورا کرنے اور بجلی کی بندش کو محدود کرنے کے لیے ایل این جی کی تاحال ضرورت ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے، جو جنگ سے پہلے عام طور پر دنیا بھر کی 20 فیصد یومیہ ایل این جی کی ترسیل سنبھالتی تھی، ایشیائی سپاٹ قیمتوں کو تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، اگرچہ حال ہی میں ان میں کچھ کمی آئی ہے۔ آخری بار یہ قیمتیں 16.05 ڈالر فی 10 لاکھ برٹش تھرمل یونٹس (ایم ایم بی ٹی یو) پر تھیں، جو 23 فروری کے بعد سے 54 فیصد اضافہ ہے۔

تجزیہ کاروں نے عالمی سطح پر ایل این جی کی فراہمی کے اندازوں میں نمایاں کمی کر دی ہے، اور انہیں توقع ہے کہ زیادہ قیمتوں اور رسد کی قلت کے باعث پورے ایشیا میں طلب میں شدید کمی آئے گی۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *