Tue. May 19th, 2026

28 ویں ترمیم بجٹ کے بعد، این ایف سی، بینظیر انکم سپورٹ کی تجاویز شامل: وفاقی وزیر

395405 726299241


وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے منگل کو بتایا ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے فی الوقت کوئی تیاری یا بحث نہیں ہوئی اور اس حوالے سے ’تمام چیزیں بجٹ کے بعد ہوں گی۔‘

حالیہ دنوں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کو پارلیمان میں جلد پیش کیے جانے سے متعلق سیاسی و قانونی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان مجوزہ ترامیم کے ممکنہ اثرات اور اس کی شقوں کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں تاہم ان ترامیم کا مسودہ تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ 

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ مجوزہ 28 ویں ترمیم کو لے کر کوئی تیاری یا بحث شروع نہیں ہوئی، اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ ’ترامیم لانے سے اراکین کی حاضری کے لیے دو تین ہفتے قبل سرگرمی شروع کرنا پڑتی ہے۔ اس ترمیم سے متعلق تمام چیزیں بجٹ کے بعد ہوں گی۔‘

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ’27 ویں ترمیم میں جو چیزیں حکومت لے کر آئی تھی لیکن اتحادی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے منظور نہیں کی جا سکی تھیں، ہماری ترجیحات ہیں کہ ان پر اتفاق رائے قائم کیا جا سکے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے لہذا انہیں اعتماد میں لیے بغیر یہ ترامیم پارلیمان میں نہیں آ سکتیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی مالیاتی مشن (این ایف سی ایوارڈ) سے متعلق مجوزہ ترمیم کی شمولیت سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ’ہم صوبوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ قرضوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات جو وفاق کے ذمہ ہیں، جو ایک بھاری بوجھ ہے اور وفاق نے اسے اکیلے اٹھا رکھا ہے، صوبے بھی اس میں کچھ حصہ ڈالیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ 18 ویں ترمیم کے اختیارات محدود یا ختم کرنا یا این ایف سی کو واپس لینے سے متعلق باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔‘

ووٹرز کی عمر کو 18 سال سے تبدیل کر کے 25 سال کرنے کی مجوزہ ترمیم سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ ’ابھی اس پر کسی بھی طرح کی کوئی بھی بحث نہیں ہو رہی۔‘

اس سے قبل وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مجوزہ ترمیم میں ووٹرز کی عمر بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اسی طرح طارق فضل چوہدری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وفاق سے صوبوں کو منتقل کرنے کی مجوزہ ترمیم سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’مرکز اور صوبوں کے درمیان یہ ایک بحث ہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام صوبوں کو منتقل کر دیا جائے، لیکن اس کا بھی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے گا۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ہے کہ 28 ویں ترمیم سے متعلق کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے کسی بھی طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ابھی تک ہم نے اس سے متعلق کوئی مسودہ یا تفصیل نہیں دیکھی، جب تک کوئی چیز سامنے ہی نہیں آئی تو ہم اس پر کیسے بحث کر سکتے ہیں؟‘

اس سوال پر کہ ’کیا صدر مملکت سے اس حوالے سے بات ہوئی ہے؟‘ سلیم مانڈوی والا نے جواب دیا: ’انہوں نے بھی اس کے شرائط و ضوابط نہیں دیکھے۔ میں نے اس سے متعلق وزیر اطلاعات و خزانہ سے بھی پوچھا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس کی معلومات نہیں ہیں۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے مجوزہ ترمیم کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’نہ ہم نے اس ترمیم کو دیکھا اور نہ اس سے متعلق کچھ معلوم ہے، ہم اسے مسترد کرتے ہیں اور حکومت میں آ کر اسے ریورس کریں گے۔‘

اس سوال پر کہ کیا حکومت نے ان کی جماعت سے اس معاملے پر بات کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ’حکومت کو خود معلوم نہیں کہ ترمیم میں کیا ہے اور کیا نہیں، تو اپوزیشن کو کیا پتہ ہوگا؟‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *