Fri. Apr 24th, 2026

جنگ کے دوران پینٹاگون کی انتہائی اہم خفیہ ای میل لیک ہو کر عوام کے سامنے آ گئی

news 1777036955 7180



news 1777036955 7180

(ویب ڈیسک) ایران جنگ کے دوران پینٹاگون کی انتہائی اہم خفیہ ای میل لیک ہو کر عوام کے سامنے آ گئی۔ 
واشنگٹن میں  ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ڈیفینس ڈیپارٹمنٹ کی ایک انتہائی خفیہ ای میل منظرِ عام پر آئی ہے

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران پینٹاگون کی ایک انتہائی خفیہ ای میل منظرِ عام پر آئی ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق اس ای میل میں سپین کو نیٹو سے نکال دینے  کا مطالبہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اور  سپین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اس وقت آئی جب سپین نے ایران جنگ میں  ساتھ دینے کے بجائے اس کی کھلی مخالفت کی اور پنی  ایئراسپیس بھی امریکی طیاروں کے لیے بند کر دی۔

پینٹاگون کا موقف ہے کہ سپین نے نہ صرف تعاون نہیں کیا بلکہ ایران کے حق میں بیانات بھی دیے، اس لیے اسے اتحاد میں رکھنا درست نہیں۔لیک ہونے والی اس خفیہ ای میل سے تین اہم انکشافات ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خفیہ ای میل میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا فاک لینڈ جزائر پر برطانیہ کے دعوے سمیت یورپ کے دیگر سامراجی قبضوں کے لیے اپنی سفارتی حمایت کا از سرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکا اب ارجنٹائن کے مقابلے میں برطانیہ کی حمایت سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ٹی آئی کے رہنما کی جیل میں حالت بگڑ گئی، ہسپتال منتقل ہو گئے

ای میل میں ان ممالک کو نیٹو سے نکالنے کی تجویز دی گئی ہے جنہوں نے ایران جنگ میں امریکا کی مشکلات بڑھائیں۔ اس کے علاوہ ان ممالک کو اہم عہدوں سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جو جنگ میں کمزور کڑی ثابت ہوئے، جن میں ترکیہ اور خود برطانیہ کا نام بھی شامل ہے۔

اس ای میل سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکا فی الحال نیٹو سے باہر نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ اپنے فوجی ٹھکانے بند کرنے کا متبادل دیکھ رہا ہے۔ اس سے قبل یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ امریکا خود نیٹو چھوڑ سکتا ہے، لیکن اب پالیسی ‘ناپسندیدہ ممالک’ کو نکالنے کی نظر آتی ہے۔

اس انکشاف کے بعد نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان صف بندیاں شروع ہو گئی ہیں اور اسے بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *