
(ویب ڈیسک) ایران کے شہر اصفہان میں حکومت نے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے ایک اور نوجوان کو پھانسی دے دی۔
عرفان کیانی پر جنوری میں حکومت کے خلاف مہنگائی کے سبب ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے کا الزام تھا۔
ایران کی ایک عدالت نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو عرفان کیانی کو سزائے موت سنائی تھی۔
ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے “میزان” کے مطابق عرفان کیانی کو شہر اصفہان میں پھانسی دی گئی۔ اس نوجوان کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپنی بے گناہی کے دعوے کے ساتھ اپیل کی گئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے بھی زیریں عدالت کی سنائی ہوئی سزائے موت برقرار رکھی۔
عرفان کیانی پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگانے، سڑکیں بلاک کرنے اور مظاہروں کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات تھے۔
ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عرفان کیانی اسرائیلی انٹیلی جنس کا ایجنٹ تھا تاہم اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
جنوری میں ہونے والے ان مظاہروں کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
ایران کی حکومت اور اداروں نے ان احتجاجوں کو عمومی طور پر “حکومت کی تبدیلی” کی بیرونی سازش کا حصہ قرار دیا تھا۔ درجنوں افراد کو اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تعلق رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ، ان میں سے کئی کو سزائے موت اور دیگر سخت سزائیں دی جا چکی ہیں۔
اس کے تقریباً چھ ہفتے بعد اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ شروع کی جو دو ہفتوں سے پاکستان کی کوششوں سے رکی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کے متعلق نہیں سوچا، اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف کال کرنا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
یہ بھی پڑھیں: نوجوان مجاہدوں کا یہ عہد ہے کہ وہ خندق بہ خندق لڑیں گے , باقر قالیباف
