Thu. Apr 30th, 2026

گائے کا گوشت منتقل کرنے کے محض شبہ پر کارروائی غیر قانونی ‘ الہ آباد ہائیکورٹ – Siasat Daily

alahabad


متاثرہ شخص محمد چاند کو دو لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت ۔ متعلقہ عہدیداروں سے رقم وصول کرنے کی اجازت

نئی دہلی 30 اپریل (ایجنسیز) الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں گاؤ ذبیحہ سے متعلق قوانین کے استعمال پر ایک اہم اور سخت فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیف کی سائنسی تصدیق کے بغیر کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی اور اس کی گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کی کارروائی کو من مانی قرار دیتے ہوئے متاثرہ شخص کو 2 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ معاملہ باغپت کے رہائشی محمد چاند سے جڑا ہے، جن کی گاڑی کو 18 اکتوبر 2024 کو پولیس نے اس شبہ میں ضبط کیا تھا کہ وہ بیف لے جا رہے تھے۔ چیکنگ کے دوران گاڑی سے مشتبہ گوشت برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور اسی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں ضلع مجسٹریٹ نے جون 2025 میں ضبطی کا حکم جاری رکھا، جبکہ ڈویڑنل کمشنر نے بھی اس فیصلے کی توثیق کرکے عرضی گزار کی اپیل مسترد کر دی۔تاہم، محمد چاند نے اس کارروائی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ سماعت کے دوران عدالت کے علم یہ بات آئی کہ وٹرنری ڈاکٹر کی رپورٹ میں گوشت کے بارے میں کوئی قطعی رائے نہیں دی گئی تھی، بلکہ اسے صرف مشتبہ قرار دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ مجاز لیبارٹری سے کسی جانچ کی رپورٹ بھی ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔ جسٹس سندیپ جین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اتر پردیش انسداد گاؤ ذبیحہ قانون 1955 کے تحت کارروائی شروع کرنے مجاز لیب کی واضح رپورٹ لازمی ہے۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ برآمد شدہ گوشت واقعی بیف ہے، تب تک گاڑی ضبط کرنا قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے سرکاری افسران کی کارروائی کو غیر قانونی، غیر ضروری اور جلد بازی قرار دیا۔عدالت نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ ضبط گاڑی ہی عرضی گزار کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھی اور تقریباً 18 ماہ تک گاڑی بند رہنے سے اسے شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ ایسی کارروائی کسی شہری کے بنیادی حقوق اور روزی روٹی پر راست اثر ڈالتی ہے۔اپنے حکم میں عدالت نے ضلع مجسٹریٹ اور ڈویڑنل کمشنر کے فیصلوں کو منسوخ کرکے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ 7 دن کے اندر عرضی گزار کو 2 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیے جائیں۔ ساتھ ہی انتظامیہ کو حکم دیا گیا کہ گاڑی کو تین دن کے اندر رہا کیا جائے۔عدالت نے واضح کیا کہ حکومت چاہے تو ادا کی گئی رقم متعلقہ ذمہ دار افسران سے وصول کر سکتی ہے۔ اس فیصلے کو ریاست میں قانون کے نفاذ کے طریقہ کار پر ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ محض شبہ کی بنیاد پر سخت اقدامات آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *