Mon. May 11th, 2026

بنوں میں پولیس چوکی پر حملہ؛ افغان ناظم الامور کی پاکستان دفتر خارجہ طلبی اور ڈی مارش

395204 1102480945


پاکستان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان ناظم الامور کو آج وزارت خارجہ میں طلب کر کے ڈی مارش کیا گیا تاکہ 9 مئی 2026 کو خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر کیے گئے آئی ای ڈی حملے کے حوالے سے سخت رد عمل پیش کیا جا سکے۔

بنوں میں ہفتے کی رات ایک چوکی پر حملے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔ 

حملے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے اہلکاروں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ واقعے کی تفصیلی تحقیقات، جمع کیے گئے شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حملہ افغانستان میں مقیم عسکریت پسندوں کا ماسٹر مائنڈڈ تھا۔

’پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے افغانستان سرزمین کے مسلسل استعمال پر پاکستان کی شدید تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے، افغان فریق پر یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان اس وحشیانہ فعل کے مرتکب افراد کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فتنہ الخوارج‘ کے عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں 15 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ چار افراد زخمی ہوئے جن میں ایک شہری بھی شامل ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ ’افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کے لیے سازگار ماحول کے بارے میں اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی نشاندہی کی جا چکی ہے۔‘

بیان کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان حکومت کو یاد دلایا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ مقصد ہے اور افغان طالبان اپنی اس ذمہ داری کو پورا کریں کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان نے ایک بار پھر افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’فتنہ الخوارج‘، ’فتنہ الہندوستان‘ اور داعش خراسان جیسے عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے جو افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے برادر اور دوست ممالک کی ثالثی میں افغان طالبان حکومت کے ساتھ متعدد مذاکرات بھی کیے، تاہم افغان طالبان ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق کارروائی کی یقین دہانی کرانے یا عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان طالبان حکومت کو واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر وہ عسکریت پسند تنظیموں کو پناہ دینا جاری رکھتی ہے تو پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے پیر کو بنوں خود کش حملے پر افسوس کا اظہار کیا۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’ہم بنوں میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ ہماری ہمدردیاں حکومت اور پاکستان کی عوام، خیبر پختونخوا پولیس، متاثرین کے اہل خانہ اور ان کے دوستوں کے ساتھ ہیں۔‘

بیان میں امریکی ناظم الامور نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے عوام سلامتی، امن اور دہشت گردی کے خوف سے آزاد مستقبل کے حق دار ہیں۔ امریکہ دہشت گردی کے ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے اپنے عزم پر قائم ہے۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *