Thu. May 14th, 2026

سائنس دانوں کو خلائی مخلوق تک پہنچنے کا نیا طریقہ مل گیا؟

395271 1108354670


سائنس دانوں نے ممکنہ طور پر دوسرے سیاروں پر زندگی کا سراغ لگانے کا ایک نیا طریقہ تلاش کر لیا ہے۔

برسوں سے، سائنس دان دوسرے سیاروں پر ان مخصوص مالیکیولز کی تلاش میں زمین پر تحقیق کر رہے ہیں جو زندگی کی علامات ہو سکتے ہیں۔

لیکن نئی تحقیق بتاتی ہے کہ انہیں تلاش کرنے کا ایک اور، زیادہ واضح طریقہ بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی مالیکیولز کو تلاش کرنے کی بجائے، اس پوشیدہ ترتیب کو تلاش کیا جائے جس کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہ انہیں آپس میں جوڑتی ہے۔

یہ تحقیق اس لحاظ سے مفید ثابت ہو سکتی ہے کہ یہ سائنس دانوں کو کسی مخصوص آلے پر انحصار کرنے کی بجائے ایک شماریاتی طریقہ کار کے ذریعے دوسرے سیاروں پر تحقیق کرنے کے قابل بناتی ہے۔

درحقیقت، ان آلات کے ڈیٹا میں اس ترتیب کو تلاش کرنا ممکن ہو سکتا ہے جو پہلے ہی خلا میں بھیجے جا چکے ہیں۔

اس تحقیق میں، محققین نے ماحولیات سے ایک خیال مستعار لیا جو حیاتیاتی تنوع کو اس نکتے سے ماپتا ہے کہ جان داروں کی کتنی اقسام موجود ہیں؟

یعنی ان کی کثرت، اور وہ اقسام کتنی یکسانیت کے ساتھ پھیلی ہوئی ہیں۔ مطلب ان کا توازن۔ پھر انہوں نے اس خیال کو غیر ارضی کیمیا پر لاگو کیا، جس میں سیارچوں اور فوسلز سمیت دیگر مقامات سے لیے گئے امینو ایسڈز اور فیٹی ایسڈز کا جائزہ لیا گیا۔

محققین کو معلوم ہوا کہ حیاتیاتی نمونے بے جان کیمسٹری سے نمایاں طور پر مختلف تھے، اور ان حیاتیاتی نمونوں میں واضح تنظیمی ترتیب دکھائی دی۔

اس کی بدولت وہ ان دو مختلف اقسام کے نمونوں کو مستقل اور قابل اعتماد انداز میں الگ کرنے کے ساتھ ساتھ ان طریقوں کو بھی دیکھ سکے جن کے ذریعے زندگی محفوظ رہی تھی۔

یہاں تک کہ انتہائی خستہ حال نمونوں، جیسے کہ ڈائنوسار کے فوسل بن جانے والے انڈوں کے خولوں، میں بھی غیر ارضی زندگی کی وہ شماریاتی علامات ظاہر ہوئیں جن کا کھوج لگایا جا سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محققین نے واضح کیا کہ نئے طریقہ کار سمیت کوئی بھی ایک طریقہ، تنہا غیر ارضی زندگی کی موجودگی کو ثابت نہیں کر سکتا۔ لیکن انہیں امید ہے کہ یہ غیر زمینی زندگی کی تلاش میں اپنا کردار ادا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے شریک مصنف فیبین کلینر نے کہا، ’ہمارا طریقہ کار یہ جانچنے کا ایک اور راستہ ہے کہ آیا وہاں زندگی موجود رہی ہو گی۔ اور اگر مختلف تکنیکیں ایک ہی سمت اشارہ کریں، تو یہ بات بہت ٹھوس ہو جاتی ہے۔‘

اس کام کو نیچر ایسٹرونومی میں شائع ہونے والے ایک مقالے، ’مالیکیولر تنوع بطور بائیو سگنیچر‘ میں بیان کیا گیا ہے۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *