وزیراعظم پاکستان شہباز کی صدارت میں منگل کو کوئٹہ میں ہونے والے بلوچستان کے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے کمپنیوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت سکیورٹی فورسز کے خصوصی ونگز تعینات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں سیکیورٹی، ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت، منصوبہ بندی اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزرا خواجہ آصف، احسن اقبال، سید محسن رضا نقوی، عطا اللہ تارڑ، خالد مگسی، جام کمال خان اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے بلوچستان کے رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس عمل سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کے لیے ایک راہداری قائم ہو گی جس میں فرنٹیئر کور کے اضافی ونگز، شاہراہوں پر سکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ، سرحدوں پر پوسٹس وغیرہ شامل ہوں گی۔
شہباز شریف نے اس موقعے پر کہا کہ ’بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا ملک میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے نا گزیر ہے۔‘
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’دہشت گردی کی عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کی بہترین ٹریننگ اور نئی ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے۔‘
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں مؤثر انداز میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں تعلیمی مواقع میں اضافہ، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، روزگار کے مواقع کی فراہمی، سپورٹس اور یوتھ پروگرامز کا فروغ، سکالرشپس، ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ، اور نوجوانوں کی فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت شامل ہیں۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif chairs a meeting of the Provincial Apex Committee of National Action Plan in Quetta. pic.twitter.com/twbuEEbaOm
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 19, 2026
آپریشن غضب لِلحق پورے عزم کے ساتھ جاری: وزیراعظم
اس سے قبل کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں اساتذہ اور زیر تربیت افسران سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا ہے کہ آپریشن غضب لِلحق پورے عزم کے ساتھ جاری ہے، جس کا مقصد افغان طالبان سے وابستہ ’دہشت گرد پراکسی نیٹ ورکس‘ کے خلاف بے گناہ شہریوں کی جان و مال کا دفاع کرنا اور ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں اور معاون ڈھانچوں کو نشانہ بنا کر انہیں سزا دینا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ’کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘
وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور قومی خودمختاری کے دفاع میں دی گئی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’مسلح افواج نے ہمیشہ مادر وطن کے دفاع میں غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔‘
انڈیا کے خلاف مئی 2025 میں ہونے والے معرکۂ حق کا حوالہ دیتے ہوئے شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے انڈیا کی بلا اشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کے ذمہ دارانہ اور محتاط رویے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے بھی پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔
براہِ راست: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے دورے کے دوران خطاب https://t.co/7jAmqmjEyw
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 19, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
انہوں نے دوست ممالک کے افسران کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے عسکری سفارت کاری اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔
بیرونی سرپرستی میں ’دہشت گردی‘ سے پاکستان کی ترقی نہیں روکی جا سکتی: فیلڈ مارشل
اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈہ، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی ’دہشت گردی‘ کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں زیر تعلیم افسروں اور فیکلٹی ممبرز سے خطاب میں فیلڈ مارشل نے کہا کہ ’دشمن قوتیں پراکسیز اور پروپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان کی پیش رفت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر ریاست کی مضبوطی اور عوام کے اتحاد کی وجہ سے یہ کوششیں ناکام ہوں گی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس سٹاف نے جدید جنگ کے تیزی سے بدلتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا اور ابھرتی ٹیکنالوجیز، کثیر جہتی آپریشنز، تینوں افواج کے باہمی تعاون اور مستقبل کے میدان جنگ کے چیلنجز سے باخبر رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔
موجودہ سکیورٹی صورت حال کی نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ ہر قسم کی ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔
بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ طویل مدتی ترقی کا انحصار عوام پر مبنی حکمت عملی، ہمہ گیر ترقی اور بہتر طرز حکمرانی پر ہے، جو سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ ضروری ہے۔
بلوچستان کو بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت مربوط کوششیں کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی منگل کو ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے ہیں جہاں وہ صوبائی قیادت سے ملاقات کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کے لیے مرتب کردہ ’نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔‘
