یونینوں میں شدید غم وغصہ ‘ احتجاج کے شدت اختیار کرنے کا اندیشہ‘ پولیس کی سخت چوکسی
حیدرآباد۔23اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاری آرٹی سی ہڑتال اس وقت شدت اختیار کر گئی جب نرسم پیٹ ضلع ورنگل میں آرٹی سی ڈرائیورشنکر گوڑ نے خودکشی کرلی ۔ تلنگانہ میں آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال نے جو کے دوسرے دن میں داخل ہوچکی تھی اور مجموعی طور پر تین آرٹی سی ملازمین نے خودکشی کی کوشش کی جن میں نرسم پیٹ میں خودکشی کرنے والے شنکر گوڑ کی اپولو ہاسپٹل ڈی آر ڈی او میں دوران علاج موت ہوگئی۔ ریاست میں جاری ہڑتال کے دوران 23 اپریل کو شنکر گوڑ کی خود کو آگ لگا کر خودسوزی کے بعد لنگا ریڈی نامی ڈرائیور نے بھدراچلم بس ڈپو میں خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی جسے دیگر احتجاجی ملازمین نے فوری حرکت میں آتے ہوئے روک لیا اور خود کو آگ لگانے سے باز رکھنے میں کامیاب رہے۔اسی طرح ضلع نلگنڈہ میں احتجاج کے دوران وینکنا نامی ڈرائیور نے بھی خود کو آگ لگالی جسے دواخانہ میں شریک کردیا گیا۔ شنکر گوڑ کی خودکشی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد احتجاجی آر ٹی سی ڈرائیورس اور سرکاری ملازمین میں شدید برہمی پیدا ہونے لگی تھی ۔ شنکر گوڑ کوجھلسی ہوئی حالت میں ضلع ورنگل کے ایم جی ایم دواخانہ میں شریک کروایا گیا لیکن ان کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹرس کے مشورہ پر انہیں خصوصی ایمبولنس کے ذریعہ یشودھا ہاسپٹل حیدرآباد منتقل کیاگیا جہاں وہ دوران علاج زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ یشودھا ہاسپٹل میں آرٹی سی ڈرائیور شنکر گوڑ کی موت کے ساتھ ہی آرٹی سی یونینوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی علاوہ ازیں اس اطلاع کے ساتھ ہی ریاست بھر میں پولیس نے سخت چوکسی اختیا رکرتے ہوئے صیانتی انتظامات کو مزید سخت کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ تلنگانہ میں آرٹی سی ہڑتال دوسرے دن میں داخل ہونے کے بعد بھی ریاستی حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کے مذاکرات شروع نہ کئے جانے اور برسوں آرٹی سی میں خدمات کی انجام دہی کے بعد بھی ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کئے جانے کے علاوہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کئے جانے سے عاجز آتے ہوئے شنکر گوڑ نے خود کو پٹرول ڈال کر آگ لگالی۔ نرسم پیٹ ضلع ورنگل میں بس ڈپو پر احتجاج کے دوران خود کو آگ لگالینے والے شنکر گوڑ کی موت کے بعد کہا جار ہاہے کہ ریاست بھر میں آرٹی سی ملازمین کا احتجاج پرتشدد رخ اختیار کرسکتا ہے۔ آرٹی سی ملازمین کی یونینوں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت آرٹی سی ہڑتال کو سبوتاج کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے لئے پولیس کا استعمال کرتے ہوئے ریاست کے اضلاع اور مواضعات میں آرٹی سی ملازمین کے احتجاج میں معاونت کرنے والوں کے علاوہ آرٹی سی ملازمین کے دھرنے کے لئے ڈیرے ‘ پانی ‘ کرسیاں وغیرہ کرایہ پر دینے کے خلاف انتباہ دیتے ہوئے ان پر مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔آرٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داروں نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ پولیس کا استعمال کرتے ہوئے احتجاج کو سبوتاج کرنے کی کوشش ایمرجنسی کی یاد دلا رہی ہے۔یونینوں کے قائدین نے کہا کہ ریاست میں حکومت اور پولیس کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات ریاستی وزراء کے بیانات سے واضح ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت آرٹی سی ملازمین کے ساتھ مذاکرات کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے اسی لئے گذشتہ یوم منیجنگ ڈائریکٹر ٹی ایس آرٹی سی نے ہڑتالی ملازمین کے خلاف کاروائی کا انتباہ دیا تھا اور آج پولیس کے ذریعہ سپلائنگ کمپنیوں کو متنبہ کیا گیا جس سے آرٹی سی ملازمین دلبرداشتہ ہونے لگے ہیں۔انہو ںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام مطالبات کی یکسوئی کرتے ہوئے مسئلہ کو حل کریں بصورت دیگر احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے ہاسپٹل پہنچ کر تفصیلات حاصل کیں ۔3/a/y
