پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مقبوضہ بیت المقدس کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں اسرائیلی حکام کی جانب سے خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہاپسند وزرا کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں دراندازیاں اور اسرائیلی پرچم لہرانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
پاکستان، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں ان ’اشتعال انگیز اقدامات‘ کو ’بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے ’دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی کے مترادف‘ کہا گیا۔
بیان میں مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک طور پر مسترد کرنے اور اس کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب 16 اپریل کو یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی مدد سے مسجد اقصیٰ پر چرھائی کر دی۔ اس دوران فلسطینی مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا۔
فلسطینی نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق یہ واقعہ اس دن پیش آیا، جسے یہودی یوم فصح کے نام سے مناتے ہیں۔ یہ تہوار تین ہزار سال پرانے اس واقعے کی خوشی میں منایا جاتا ہے جب یہودیوں کو مصر سے نکلنے کا موقع ملا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام یروشلم کے گورنریٹ کے مطابق اس موقعے پر یہودی آباد کاروں نے یہودی رسومات بھی مسجد اقصیٰ میں ادا کیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں دو افراد کو احاطے کے اندر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جبکہ ان کے پیچھے قبة الصخرہ نمایاں تھا۔
مسلم ممالک کے وزرا نے اپنے مشترکہ بیان میں ’غیر قانونی آبادکاری کی تیز رفتار سرگرمیوں کی مذمت کی، جن میں اسرائیل کا 30 سے زائد نئی بستیوں کی منظوری کا فیصلہ بھی شامل ہے، جو بین الاقوامی قانون، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے، کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے مسلسل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی بھی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا گیا، جن میں حالیہ دنوں میں فلسطینی سکولوں اور بچوں پر حملے بھی شامل ہیں۔
PR No.
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Egypt, Turkiye, Indonesia, Jordan, Qatar, Saudi Arabia, and the UAE, 23 April, 2026
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 23, 2026
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقے پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے ’مقبوضہ فلسطینی علاقے کو ضم کرنے یا فلسطینی عوام کو بے دخل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک طور پر مسترد کیا۔‘
وزرا نے زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات فلسطینی ریاست کے قیام کی صلاحیت اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر ایک دانستہ اور براہِ راست حملہ ہیں، کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں، امن کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں اور کشیدگی میں کمی اور استحکام کی بحالی کے لیے جاری اقدامات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔
مسلم ممالک کے وزرا نے بین الاقوامی برادری سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھانے اور اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی خطرناک کشیدگی کو روکنے اور اپنی غیر قانونی کارروائیوں کا خاتمہ کرنے پر مجبور کرنے کی اپیل کا اعادہ کیا۔
بیان میں بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالے اور ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے واضح اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔
انہوں نے عالمی برادری سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ جامع امن کے حصول کے لیے، جو دو ریاستی حل پر مبنی ہو، ایک سیاسی حل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرے۔
وزرا نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
