کراچی:
سندھ ہائیکورٹ میں دودھ کی قیمتوں میں ریٹیلرز کے منافع میں اضافے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جہاں سرکاری وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا کی۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کمشنر کراچی کو دودھ کی قیمتوں کے تعین کا اختیار حاصل ہے۔ وکیل نے بتایا کہ صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بنیاد بنا کر دکانیں سیل کی جا رہی ہیں، جب تک سرکاری جواب جمع نہیں ہوتا دکانداروں کے خلاف کارروائی اور دکانیں سیل کرنے سے روکا جائے۔
عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ نے کبھی دکان سے دودھ خرید کر استعمال کیا ہے؟۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بھینس کا دودھ استعمال کریں تو فرق معلوم ہو جائے گا اور کراچی میں دستیاب دودھ میں ویسے ہی ملاوٹ ہوتی ہے۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ اگر حکومت درست ریٹ طے نہیں کرے گی تو دکاندار مجبوراً ملاوٹ کریں گے۔ دودھ کو ابالنے پر ملاوٹ کا پتا چل جاتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے دودھ لے آئیں، ہم سونگھ کر بتا دیں گے کہ ملاوٹ ہوئی ہے یا نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست کی سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔
