Fri. May 15th, 2026

سینیٹ میں ایران کے خلاف جنگ میں  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  اختیارات کم کرنے  کی ایک اور قرارداد مسترد

news 1778783740 4250



news 1778783740 4250

(ویب ڈیسک)  امریکہ کی سینیٹ نے ایران کے خلاف جنگ میں  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  اختیارات کو کم کرنے  کی تازہ ترین قرارداد کو 49-50 ووٹوں سے سختی سے مسترد کر دیا۔

امریکہ کی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے  سینیٹر جیف مرکلے کی طرف سے پیش کی گئی یہ قرارداد   28 فروری کو ایران امریکہ فوجی تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے سینیٹ ڈیموکریٹس کی جانب سے جنگی اختیارات کے اقدام کو منظور کرنے میں لگاتار ساتویں ناکامی ہے۔ قرارداد میں 1973 کے جنگی اختیارات کے ایکٹ کو متحرک کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ صدر کسی ملک کے خلاف غیر مجاز جنگ میں 60 دن گزرنے کے بعد مسلح افواج کو غیر واضح طور پر  واپس بلا لیں، جب تک کہ امریکہ کی کانگریس  اس جنگ کی اجازت نہ دے۔ 

ووٹ کی اہم سیاسی حرکیات
 تین ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی پارٹی کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنے کے حق میں ووٹ دینے کے لیے پارٹی کی پالیسی سے بغاوت کی۔ سینیٹر لیزا مرکووسکی نے طویل عرصے سے اختلاف رکھنے والے سوسن کولنز اور رینڈ پال  کے ساتھ  ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر کی اس قرار داد کی حمایت میں شمولیت اختیار کی، جس نے دعویٰ کی گئی جنگ بندی کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے وضاحت کی کمی اور جاری حملوں کا حوالہ دیا۔

ریپبلکن صدر کو ڈیموکریٹ سینیٹر نے بچایا

ایران جنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات کو کم کرنے کی حالیہ قرارداد کو  ڈیموکریٹک سینیٹر کی  ڈیفیکشننے ناکام بنایا۔ تین ری پبلکن سینیٹر تو اپنی پارٹی کی پالیسی سے بغاوت کر کے ڈیموکریٹک پارٹی کی قرارداد کی حمایت کر رہے تھے، اس دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی کے سینیٹر کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، ریپبلکن اکثریت کے ساتھ واحد ڈیموکریٹ کی حمایت مل جانے سے یہ قرارداد 49 کے مقابلے میں  50 ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ ناکام ہو گئی۔  کے طور پر کام کیا۔ بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیموکریت سینیتر نے ڈیموکریٹک پارٹی کی  قرارداد کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

صدر کے جنگ کو 60 دن جاری رکھنے کے اختیار کا قانونی تنازعہ

ایران کے خلاف امریکہ کی 28 فروری کو آغاز ہونے والی جنگ  1 مئی کو اپنی 60 دن کی اہم حد سے گزر  گئی۔ امریکہ کے ٓائین کے مطابق کوئی صدر کانگرس کی منظوری لئے بغیر کسی ملک کے ساتھ جنگ شروع کر کے  60 دن تک یہ جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔ جنگ کی طوایت 60 دن سے زیادہ ہو تو صدر کو کانگرس سے منطوری لینا پڑتی ہے۔  ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب  جنگ کو جاری رکھ کر قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، ٹرمپ انتظامیہ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ اپریل کے اوائل میں (8اپریل کو) جنگ رک گئی تھی۔ جنگ بندی نافذ کی گئی  تو  60 دن کی مدت کا شمار  قانونی طور پر رک گیا تھا۔ اس تنازعہ کا کوئی حتمی فیصلہ کسی فورم پر نہیں ہوا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی تشریح کے مطابق ابھی ایران جنگ کو  60 دن پورے ہوئے ہی نہیں، وہ چاہیں تو جنگ کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں اور 60 دن متحرک جنگ سے پہلے انہیں کانگرس سے منطوری لینے کی ضرورت نہیں۔ 

ڈیموکریٹک پارٹی دوبارہ کوشش کرے گی
سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر اور بل کے دیگر حامیوں نے فلور پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس نے طویل تنازعہ کو براہ راست گھریلو اقتصادی تناؤ سے جوڑ دیا ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ  ایران جنگ  کی وجہ سے امریکی گیس کی قیمتیں 4.50 ڈالر فی گیلن سے بڑھ گئی ہیں۔ اس ڈومیسٹک اثر کو لے کر ڈیمورکیٹک پارٹی نے  ناکامی کے باوجود،  وعدہ کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے جنگ کرنے کے اختیارات ک کو سلب کرنے کے لئے ہر ہفتے کوشش کرتی رہے گی جب تک کہ کانگریس کی واضح اجازت طے نہیں ہو جاتی۔

یہ بھی پڑھیئے:  روس جنگ :یوکرینی ڈرون گرنے کے بعد  پڑوسی ملک میں سیاسی بھونچال، وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *