
(ویب ڈیسک)سپین حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تارکینِ وطن کے لیے عام معافی (امنیسٹی) کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ جس کے تحت ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں افراد کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سپین کی اس پالیسی کے تحت اہل افراد باقاعدہ رہائشی اور ورک پرمٹ کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ جس کے بعد وہ قانونی طور پر سپین میں رہائش اور ملازمت اختیار کر سکیں گے۔
سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس اقدام کو انصاف پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو افراد پہلے ہی ملک میں رہ کر کام کر رہے ہیں انہیں معاشرے کا باقاعدہ حصہ بنایا جانا چاہیے۔ تاکہ وہ ٹیکس نظام میں شامل ہو سکیں اور معیشت میں اپنا کردار ادا کریں۔
سپین حکومت کے مطابق درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ مخصوص تاریخ سے پہلےاسپین پہنچے تھے۔ کچھ عرصے سے وہاں مقیم ہیں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اہل افراد کو ابتدائی طور پر ایک سال کا عارضی رہائشی اور ورک پرمٹ دیا جائے گا۔
درخواستوں کا آغاز 20 اپریل سے شروع ہو گا جبکہ یہ عمل 30 جون تک جاری رہے گا۔
حکام کے مطابق تقریباً 5 لاکھ افراد اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اس فیصلے پر سیاسی بحث بھی جاری ہے۔ جہاں اپوزیشن جماعتوں اور بعض حلقوں نے اسے متنازع قرار دیا ہے۔ جبکہ امیگریشن حکام نے مختصر وقت میں بڑی تعداد میں درخواستوں کو نمٹانے کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:شین وارن کی موت کا ذمہ دار کون ؟ بیٹے کا تہلکہ خیز انکشاف
