Wed. Apr 15th, 2026

پنجاب کے جنگلات میں کان کنی کی اجازت دینے پر ماہرین کو تشویش

394430 24894293


ماہرین ماحولیات نے پنجاب حکومت کی جانب سے جنگلات میں کان کنی کی اجازت کو ماحول کے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے۔

حکومت پنجاب نے کان کنی کو فروغ دینے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے محفوظ جنگلات اور علاقوں میں بھی معدنی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے قانون میں ترامیم کا بل اسمبلی میں پیش کیا ہے، جسے ماہرین نے ماحولیاتی اثرات میں رد وبدل کا خدشہ قرار دیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں چھ فیصد تک جنگلات موجود ہیں۔ عالمی ماحولیاتی اداروں کے مطابق کسی بھی ملک میں کل رقبے کے 25 فیصد تک رقبے پر سبزہ ضروری ہے۔ 

عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک طرف حکومت تحفظ ماحول کے لیے اقدام کو لازمی قرار دے رہی ہے جب کہ دوسری جانب جنگلات میں معدنیات کے لیے کان کنی کی قانون سازی بھی کی جا رہی ہے، جس سے جنگلات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 

پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ جنگلات پر مشتمل علاقوں میں موجود قیمتی معدنی وسائل قانونی رکاوٹوں کے باعث استعمال نہیں ہو پا رہے تھے جبکہ غیر واضح قوانین کے سبب کان کنی کے منصوبے تعطل کا شکار تھے، اس لیے قانونی ترامیم ضروری ہیں۔

حکومت پنجاب نے صوبائی اسمبلی کے رواں اجلاس میں ایک ہی نوعیت کے تین مختلف مسودہ قوانین پیش کیے ہیں، جن کے تحت جنگلات، محفوظ علاقوں اور وائلڈ لائف سے متعلق پرانے قوانین میں ترامیم کی جا رہی ہیں۔

پیش کیے گئے مسودہ قوانین میں جنگلات (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت جنگلات ایکٹ 1927، پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020، جبکہ پنجاب وائلڈ لائف (ترمیم) ایکٹ 2026 کے تحت پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 میں ترامیم شامل ہیں۔

ان  بلز میں تجویز دی گئی ہے کہ قومی اہمیت کے ترقیاتی اور معدنی منصوبوں کو محفوظ اور جنگلاتی علاقوں میں معدنی سرگرمیوں کے اختیارات دیے جائیں گے اور جنگلاتی اراضی کو کان کنی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا قانونی فریم ورک تیار کیا جائے گا کیوں کہ قومی معدنی پالیسی سے ہم آہنگی، معیشت، روزگار اور ریونیو میں اضافے کے لیے معدنی وسائل کا استعمال ضروری ہے۔ ساتھ ہی غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے مربوط نظام متعارف کروانا بھی لازم تھا۔

ان بلوں کو کمیٹی کی منظوری کے بعد اسمبلی سے منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے جبکہ حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔

اس حوالے سے ماہر ماحولیات الماس حیدر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان میں پہلے ہی جنگلات صرف چھ فیصد سے کم  ہیں۔ اب معدنیات کے لیے جنگلات کی کٹائی سے ماحولیات پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے پہلے ہی مشکلات ہیں، اب اس طرح قوانین سے مزید حالات خراب ہو سکتے ہیں، جس سے خلاف معمول بارشیں، اربن فلڈنگ اور کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

’ایک طرف حکومت تحفظ ماحولیات کو یقینی بنانے کے اقدامات پر سرمایہ خرچ کر رہی ہے۔ دوسری جانب اس طرح کے قانونی اجازت نامے حالات کی خرابی کا سبب بن سکتے ہیں۔‘

 

الماس حیدر کے بقول: ’پہلے ہی ایبٹ آباد سائیڈ پر معدنیات کی کان کنی سے جنگلات متاثر ہو رہے ہیں۔ وہاں سے گرینائٹ اور ماربل پتھر نکالنے کے لیے یہاں سے سبزہ ختم ہو رہا ہے۔ اسی طرح گلگت اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں غیر قانونی طور پر جنگلات کی کٹائی روکنے کا چیلنج برقرار ہے۔ دوسری جانب قانونی اجازت سے کھلے عام کان کنی کے نام پر جنگلات متاثر ہوسکتے ہیں۔‘

تحفظ ماحولیات کے لیے کام کرنے والے عظیم یاسر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’پاکستان اور پنجاب میں جنگلات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ اس کے لیے ہر حکومت دعویٰ بھی کرتی ہے مگر جتنی ترجیح دینی چاہیے، وہ نظر نہیں آتی۔ پہلے بھی ہمارے ہاں معدنیات کی کان کنی جاری ہے، جس سے کئی علاقوں میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی ہوتی ہے، لیکن اب اسے قانونی شکل دے کر جاری رکھنے کا جواز فراہم کیا جا رہا ہے، لہذا حکومت پنجاب کو اس حوالے سے ماہرینِ تحفظ ماحولیات سے مشاورت ضرور کرنی چاہیے تھی۔‘

حکومتی قانون سازی میں کان کنی کے لیے قانونی طور پر معدنیات نکالنے کے لیے سپیشل فورس تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت صرف قانونی طور پر ہی معدنیات کے لیے کان کنی ممکن بنائی جا سکے گی۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *