Mon. May 25th, 2026

کرپٹو کےذریعے منی لانڈرگ۔۔ آن لائن دھوکہ بازی میں تیزیاہم انکشافات

news 1763481687 3417



news 1763481687 3417

(ویب ڈیسک)بھارت کی وزارت داخلہ کی رپورٹ  میں انکشاف کیا گیا ہےکہ  کرپٹو کے ذریعے 623 کروڑ بھارتی روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی ہے اور 27 کرپٹو ایکسچینجز حکومت کی رڈار پر آگئیں ہیں ۔بھارت میں پچھلے چند برسوں کے دوران آن لائن دھوکہ دیہی اس قدر تیزی سے بڑھی ہے کہ ہزاروں لوگ جان ہی نہیں پاتے کہ ان کی محنت کی کمائی کب، کیسے اور کہاں غائب ہوگئی۔
بھارت کی بڑی اردو ویب نیوز کے مطابق وزارت خارجہ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مجرموں نے 27 بھارتی کرپٹو ایکسچینجز کے ذریعے 623 کروڑ  بھارتی روپے منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کئے۔ بھارت میں پچھلے چند برسوں کے دوران آن لائن دھوکہ بازی اس قدر تیزی سے بڑھی ہے کہ ہزاروں لوگ جان ہی نہیں پاتے کہ ان کی محنت کی کمائی کب، کیسے اور کہاں غائب ہوگئی۔
جنوری 2024 سے ستمبر 2025 تک درج ہونے والے سائبر فراڈ کے معاملات کی تحقیق میں ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔کم از کم 27 کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو مجرموں نے منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا۔وزارت داخلہ (MHA) کی رپورٹ کے مطابق، ان سب ایکسچینجز کو ایک جیسے طریقے سے exploit کیا گیا۔ سائبر ٹھگوں نے 2,872 شہریوں سے 623.63 کروڑ روپے لوٹے اور انہیں ڈیجیٹل والٹس اور کرپٹو ایکسچینج کے چکر میں پھنسایا۔صرف 21 مہینوں میں اتنی بڑی رقم کا گردش میں آنا، ملک کے لیے ایک بہت بڑا الرٹ ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً 25.3 کروڑ روپے 12 غیر ملکی کرپٹو ایکسچینجز کے ذریعے منتقل کیے گئے،مگر یہ رقم بھارتی پلیٹ فارموں کے مقابلے میں بہت کم تھی۔یہ تمام اعداد و شمار NCRP (National Cybercrime Reporting Portal) اور I4C (Indian Cyber Crime Coordination Centre) نے مل کر تیار کیے۔
ماہرین کے مطابق یہ اب تک کا سب سے پیچیدہ سائبر منی لانڈرنگ نیٹ ورک ہے۔

متاثرہ افراد کو علم ہی نہیں تھا کہ پیسہ کہاں جا رہا ہےزیادہ تر متاثرہ لوگ یہ سمجھ کر پیسہ کسی ایپ پر بھیج دیتے تھے کہ وہ trading یا investment کر رہے ہیں۔انہیں یہ اندازہ تک نہیں ہوتا تھا کہ ان کا پیسہ چپکے سے کرپٹو میں تبدیل کر دیا جا رہا ہےپھر اسے متعدد والٹس میں گھمایا جا رہا ہےتاکہ ٹریک کرنا ناممکن ہو جائے۔ایک افسر کے مطابق ’’زیادہ تر متاثرین کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کی کمائی کس گڑھے میں جا رہی ہے‘‘۔اسی وجہ سے I4C نے 27 VASPs (Virtual Asset Service Providers) کی ایک خفیہ فہرست تشکیل دی اور اسے تمام تحقیقاتی ایجنسیوں اور FIU کے ساتھ شیئر کیا۔NCRP رپورٹ  کے مطابق  رقم اندر بھی گئی اور باہر بھی۔ ستمبر 2025 تک 1,608 شکایات : 200 کروڑ روپے بھارتی پلیٹ فارمز میں گئے۔1,264 شکایات 423.91 کروڑ روپے گزشتہ سال ان پلیٹ فارمز سے باہر گئے،کل ملا کر 623.63 کروڑ روپے کا فراڈ پکڑا جا سکا۔افسران کا کہنا ہے کہ یہ صرف iceberg کی tip ہے اصل رقم کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

MHA کی لسٹ میں شامل بڑے بھارتی ایکسچینجز  میںCoinDCX۔۔WazirX۔۔Giottus۔۔ZebPay۔۔Mudrex۔۔CoinSwitch شامل ہیں۔ اس حوالے سے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز CoinSwitch  کا کہنا ہے ’’ہماری پلیٹ فارم سے ایسا کوئی غلط ٹرانسفر نہیں ہوا۔ ہمارا سسٹم مکمل طور پر compliant ہے۔‘‘CoinDCX کے مطابق’’ہم privacy قوانین کے تحت مخصوص کیس کی تفصیلات نہیں بتا سکتے،مگر ہم multi-signature اور MPC wallets جیسے advanced security tools استعمال کرتے ہیں‘‘۔Mudrex کرپٹو کرنسی ایکسچینجز

کا کہنا ہےکہ’’2023 سے FIU میں رجسٹر تمام پلیٹ فارمز نے بہترین AML/KYC قوانین لاگو کیے ہیں۔ہم ہر suspicious transaction پر STR رپورٹ فائل کرتے ہیں‘‘۔

اس حوالے سے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز Giottus CEO Vikram Subburaj کے سی ای اور وکرم سوبوراج نےمثال دیتے ہوئے کہا  کہ’’ اگر کوئی مجرم Swiggy سے کھانا منگوائے یا Ola سے ٹیکسی لے،تو کیا Swiggy یا Ola اس جرم میں شامل ہو جاتے ہیں؟بالکل نہیں۔اسی طرح کرپٹو ایکسچینجز بھی صرف سہولت فراہم کرتے ہیں‘‘۔ کرپٹو کرنسی ایکسچینجزCoinDCX کا اعتراف ہےکہ’’جیسے جیسے کرپٹو بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے مجرم نئی چالیں نکال رہے ہیں۔ہم مسلسل اپنے AML اور سیکیورٹی سسٹم بہتر کر رہے ہیں‘‘۔

رپورٹ کے مطابق WazirX Hack کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو  235 million dollars کا نقصان ہوا،جولائی 2024 میں بڑا حملہ ہوا۔ کمپنی کے مطابق hack third-party custody server پر ہوا۔BitGo کے ساتھ partnership کے بعد کمپنی نے بتایا کہ 85% ذمہ داریاں پوری ہو گئیں،250ملین ڈالرز کا insurance cover لیا گیا۔کرپٹو کرنسی ایکسچینجزZebPay کے مطابق’’ ہم سخت ترین KYC، AML اور سائبر سیکیورٹی قواعد اپناتے ہیں‘‘۔جب 2018 میں بنکنگ پابندی لگی تو بھارتی ایکسچینجز کے پاس بینک اکاؤنٹ بھی نہیں تھےاسی وجہ سے کئی ایکسچینجز نے بیرونِ ملک holding companies بنائیں،جو آج بھی operate کر رہی ہیں۔

ٹیکس کی تحقیات کےحوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2022 میں GST (DGGI) نے 17 کرپٹو ایکسچینجز سے 824.14 کروڑ روپے کا بقیہ GST پکڑا،122.29 کروڑ روپے ریکور کیے گئے،2024 کے بعد غیر ملکی کرپٹو پلیٹ فارم بھی GST کے دائرے میں آ گئے۔

ED و FIU کی نئی تحقیق یہ دیکھا جا رہا ہے کہ  کہیں Indian intermediaries “crypto mules” تو نہیں بن رہے،بغیر KYC والے اکاؤنٹ سسٹم کو تو نہیں دھوکہ دے رہے۔NCRP کے مطابق Onlychain Vilnius (UK/US based) سب سے بڑا فراڈ ٹرانسفر 10.09 کروڑ روپے  کا ہوا۔Mauritius-based Ezipay Ebene8 سے 8.13کروڑ روپے  کا ہوا۔
Onlychain Vilnius نے جواب نہیں دیا۔Ezipay نے کہا :’’ہم کوئی crypto service نہیں دیتے‘‘’’ہماری ساری transactions card-based ہوتی ہیں‘‘۔
یہ واضح ہے کہ بھارت کا کرپٹو سیکٹر ابھی پختہ نہیں ہوا۔جہاں حکومت قوانین، سخت کر رہی ہے، وہیں ایکسچینجز بھی اپنے سسٹمز مضبوط کر رہے ہیں۔لیکن عام لوگوں کو بھی ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ ڈیجیٹل دنیا میں چھوٹی سی غلطی بہت بڑا مالی نقصان کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ، ایک لاکھ 62 ہزار کی حد بحال،ڈالر بھی سستا

 





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *