Thu. Apr 16th, 2026

شہباز شریف کا فضا میں استقبال، امیر قطر سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو

394466 1664316939


وزیراعظم شہباز شریف اپنے سہ ملکی دورے کے سلسلے میں جمعرات کو قطر پہنچے، جہاں انہوں نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور دفاعی تعاون سمیت دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کو قطر پہنچنے پر قطری فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے اپنے حصار میں ایئرپورٹ چھوڑا جس پر انہوں نے امیر قطر کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان امیری دیوان میں ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں ’دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال سمیت علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔‘

امیر قطر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی مکالمے کو فروغ دینے میں پاکستان کے اہم کردار کو سراہا، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم پاکستان نے قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا اور قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور علاقائی سلامتی و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، خاص طور پر توانائی کی ترسیل کے نظام کو بلا تعطل جاری رکھنے کے حوالے سے۔‘

ملاقات میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات اور انہیں مزید فروغ دینے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیا گیا، ’بالخصوص سکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بات چیت ہوئی تاکہ شراکت داری مزید مضبوط ہو اور نئے مواقع پیدا ہوں۔‘

اس ملاقات میں قطر کی جانب سے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی، امیری دیوان کے سربراہ عبداللہ بن محمد الخلیفی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِاعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور دیگر سینیئر حکام شامل تھے۔

امیرقطر اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان ایک علیحدہ ملاقات بھی ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر موجودہ حالات اور ان کے علاقائی سلامتی پر اثرات کے پیش نظر مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رہنی چاہیے۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *