
(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی حکومت نے ان کی درخواست پر 8 خواتین کی سزائے موت پر عمل روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ ان خواتین میں سے 4 کو فوری رہا کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ آج ٹروتھ سوشل پر سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایرانی حکومت نے ان کی درخواست پر 8 خواتین کی سزائے موت پر عمل روک دیا ہے۔
اپنے ملکیتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا کہ انہیں ابھی بتایا گیا ہے کہ جن 8 خواتین کو آج رات سزائے موت دی جا رہی تھی، انہیں اب سزائے موت نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان میں سے 4 خواتین کو فوری رہا کیا جائے گا جبکہ 4 کو ایک ماہ کی قید کے بعد رہا کردیا جائے گا۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اس کو سراہتے ہیں کہ ایرانی قیادت نے ان کی اس درخواست کا احترام کیا اور ان خواتین کی سزائے موت کو ختم کردیا۔
ایران میں تین ماہ پہلے عوامی احتجاجوں کے دوران گرفتار کئے گئے لوگوں میں سے 8 نوجوان عورتوں کو سزائے موت دینے کے خدشہ نے ایران سے باہر احتجاج کو جنم دیا۔ ایرانی ڈایا سپورا نے ان خواتین کو سزائے موت سے بچانے کے لئے کیمپین کی۔ اس دوران دو روز پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ مطالبہ کیا کہ ایران ان خواتین کو پھانسی نہ دے۔
گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر 8 خواتین کی تصویروں کا کولاج شیئر کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ایک ایکٹوسٹ کی پوسٹ شیئر کرتےہوئے ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کے نام پیغام لکھا کہ ’یہ ایران کے رہنماؤں کے نام، جو جلد ہی میرے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے والے ہیں، میں ان خواتین کی رہائی کو بہت سراہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس بات کا احترام کریں گے ، براہِ کرم انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، ان خواتین کی رہائی مذکرات کا بہترین آغاز ہوگا‘۔
میڈیا رپورٹس مین کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کی پوسٹ کی ہوئی تصاویر میں صرف ایک خاتون کی شناخت ہوسکی تھی جو رواں برس حکومت مخالف مظاہرے میں شریک تھی جبکہ دیگر کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آسکیں۔
امریکی میڈيا کے مطابق ان 8 خواتین کے ایران میں قید ہونے کی آزادانہ طور پر تصدیق اب تک نہ ہو سکی۔
آج ہی ایران کی سپریم کورٹ نے ایک ایرانی شہری کو اسرائیل کی ایجنسی موساد کا ایجنٹ قرار دے کر پھانسی دینے کی خبر اپنے ویب سائٹ پر شائع کی تو اس کے ساتھ ایرانی سپریم کورٹ نے یہ بھی بتایا کہ 8 خواتین کو پھانسی کی سزا نہیں دی گئی۔
فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی نے بتایا کہ ایرانی عدلیہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدرکو ایک بار پھر جعلی خبروں سےگمراہ کیا گیا، جن خواتین کی پھانسی کی بات کی گئی، ان میں سے کچھ رہا ہوگئی ہیں، دیگر خواتین پر جو الزامات ہیں ان میں سزا سنائی بھی گئی تو قید کی ہوگی۔
اس سے ملتی جلتی ہی بات بعد مین صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل بیان میں کہی کہ چار خواتین کو رہا کیا جا رہا ہے اور باقی کو قید کی سزا کاٹنا ہو گی۔ لیکن ٹرمپ نے ایران کی سپریم کورٹ کے اس دعوے کا کوئی جواب نہیں دیا کہ ان عورتوں کو سزائے موت دی ہی نہیں گئی تھی۔
