Thu. May 21st, 2026

صمود فلوٹیلا: سعد ایدھی سمیت سینکڑوں کارکن اسرائیلی حراست سے رہا

395460 1973292198


فلسطین ایکشن کولیشن نے جمعرات کو کہا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے مشن پر جانے والے صمود فلوٹیلا میں شامل پاکستانی سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت سینکڑوں کارکنوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’سعد ایدھی کی رہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ فلوٹیلا کو روکا جا سکتا ہے اور کارکنان کو حراست میں لیا جا سکتا ہے، مگر انصاف کے لیے اٹھنے والی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ جدوجہد کسی ایک شخص یا ایک سفر تک محدود نہیں بلکہ ان لوگوں تک پہنچنے کے بنیادی حق سے جڑی ہے جن تک رسائی ممکن نہیں بنائی جا رہی۔

اسرائیل نے بھی جمعرات کو تصدیق کی کہ فلوٹیلا کے سینکڑوں غیر ملکی کارکنان کو رہا کر کے ملک بدر کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس حوالے سے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں گلوبل صمود فلوٹیلا میں سوار سعد ایدھی کو اسرائیلی قابض افواج کی غیر قانونی حراست سے رہا کر دیا گیا ہے۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’وہ (سعد ایدھی) دیگر زیرِ حراست انسانی امدادی کارکنوں کے ہمراہ بحفاظت استنبول پہنچ گئے ہیں۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ تمام غیر ملکی شرکا کو جنوبی شہر ایلات کے قریب ایک سول ہوائی اڈے کے ذریعے واپس بھیجوایا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ معاملہ اس وقت بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا جب حراست میں لیے گئے کارکنان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر کئی ممالک نے اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

برطانیہ، فرانس اور پرتگال سمیت متعدد ممالک نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ ترکی نے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے طیارے بھیجنے کا اعلان کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے ہدایت دی ہے کہ کارکنان کو جلد از جلد ملک بدر کیا جائے۔

فلوٹیلا مشن اپریل میں سپین سے روانہ ہوا تھا، جس کا مقصد غزہ میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کی صورت حال کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانا تھا۔

اسرائیل اس سے قبل بھی ایسی کوششوں کو روک چکا ہے جس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ’حماس کے حق میں تشہیری مہم‘ ہیں۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *